المائدة 5:107 فان عثر على انهما استحقا اثما فاخران يقومان مقامهما من الذين استحق عليهم الاوليان فيقسمان بالله لشهادتنا احق من شهادتهما وما اعتدينا انا اذا لمن الظالمين ١٠٧
فَاِنْ
عُثِرَ
عَلٰۤی
اَنَّهُمَا
اسْتَحَقَّاۤ
اِثْمًا
فَاٰخَرٰنِ
یَقُوْمٰنِ
مَقَامَهُمَا
مِنَ
الَّذِیْنَ
اسْتَحَقَّ
عَلَیْهِمُ
الْاَوْلَیٰنِ
فَیُقْسِمٰنِ
بِاللّٰهِ
لَشَهَادَتُنَاۤ
اَحَقُّ
مِنْ
شَهَادَتِهِمَا
وَمَا
اعْتَدَیْنَاۤ ۖؗ
اِنَّاۤ
اِذًا
لَّمِنَ
الظّٰلِمِیْنَ
۟
لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو ان کی بہ نسبت شہادت دینے کے لیے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو، اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ "ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ بر حق ہے اور ہم نے اپنے گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے"
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہو جائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔
«أَوْلَيَانِ» کی دوسری قرأت «اَوّلَانِ» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزد
باب…
پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہو جائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔
«أَوْلَيَانِ» کی