المائدة 5:106 يا ايها الذين امنوا شهادة بينكم اذا حضر احدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم او اخران من غيركم ان انتم ضربتم في الارض فاصابتكم مصيبة الموت تحبسونهما من بعد الصلاة فيقسمان بالله ان ارتبتم لا نشتري به ثمنا ولو كان ذا قربى ولا نكتم شهادة الله انا اذا لمن الاثمين ١٠٦
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
شَهَادَةُ
بَیْنِكُمْ
اِذَا
حَضَرَ
اَحَدَكُمُ
الْمَوْتُ
حِیْنَ
الْوَصِیَّةِ
اثْنٰنِ
ذَوَا
عَدْلٍ
مِّنْكُمْ
اَوْ
اٰخَرٰنِ
مِنْ
غَیْرِكُمْ
اِنْ
اَنْتُمْ
ضَرَبْتُمْ
فِی
الْاَرْضِ
فَاَصَابَتْكُمْ
مُّصِیْبَةُ
الْمَوْتِ ؕ
تَحْبِسُوْنَهُمَا
مِنْ
بَعْدِ
الصَّلٰوةِ
فَیُقْسِمٰنِ
بِاللّٰهِ
اِنِ
ارْتَبْتُمْ
لَا
نَشْتَرِیْ
بِهٖ
ثَمَنًا
وَّلَوْ
كَانَ
ذَا
قُرْبٰی ۙ
وَلَا
نَكْتُمُ
شَهَادَةَ ۙ
اللّٰهِ
اِنَّاۤ
اِذًا
لَّمِنَ
الْاٰثِمِیْنَ
۟
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیّت کررہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحبِ عدل آدمی1 گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائیں۔2 پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھاکر کہیں کہ ”ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اورخواہ کوئی ہمارارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں)، اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
معتبر گواہی کی شرائط ٭٭…
بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں «اِثْنَانِ» خبر ہے، اس کی تقدیر «شَهَادَةُ اثْنَیْنِ» ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کر دیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کر دیا گیا ہے یعنی «اَنْ یَّشْهَدَ اِثْنَان
معتبر گواہی کی شرائط ٭٭…
بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں «اِثْنَانِ» خبر ہے، اس کی تقدیر «شَهَادَةُ اث