المائدة 5:101 يا ايها الذين امنوا لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسوكم وان تسالوا عنها حين ينزل القران تبد لكم عفا الله عنها والله غفور حليم ١٠١
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَا
تَسْـَٔلُوْا
عَنْ
اَشْیَآءَ
اِنْ
تُبْدَ
لَكُمْ
تَسُؤْكُمْ ۚ
وَاِنْ
تَسْـَٔلُوْا
عَنْهَا
حِیْنَ
یُنَزَّلُ
الْقُرْاٰنُ
تُبْدَ
لَكُمْ ؕ
عَفَا
اللّٰهُ
عَنْهَا ؕ
وَاللّٰهُ
غَفُوْرٌ
حَلِیْمٌ
۟
اے اہل ایمان ! ان چیزوں کے متعلق سوال نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم سوال کرو گے ایسی چیزوں کے بارے میں جبکہ ابھی قرآن کا نزول جاری ہے تو تمہارے لیے وہ ظاہرکر دی جائیں گی اللہ تعالیٰ نے اس میں درگزر سے کام لیا ہے اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭…
مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ [مسند ابو یعلی:1053:حسن]
ابن حاطب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭…
مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ