سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
018

الكهف 18:75 ۞ قال الم اقل لك انك لن تستطيع معي صبرا ٧٥

18:75
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
لَّكَ
اِنَّكَ
لَنْ
تَسْتَطِیْعَ
مَعِیَ
صَبْرًا
۟
اس (خضر) نے کہا : کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے
پڑھنا جاری رکھیں

تفسیر پڑھیں

تفسیر ابنِ کثیر

موسیٰ علیہ السلام کی بےصبری ٭٭

حضرت خضر علیہ السلام نے اس دوسری مرتبہ اور زیادہ تاکید سے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی منظور کی ہوئی شرط کے خلاف کرنے پر تنبیہ فرمائی۔ اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے بھی اس بار اور ہی راہ اختیار کی اور فرمانے لگے، اچھا اب کی دفعہ اور جانے دو اب اگر میں آپ پر اعتراض کروں تو

…
موسیٰ علیہ السلام کی بےصبری ٭٭

حضرت خضر علیہ السلام نے اس دوسری مرتبہ اور زیادہ تاکید سے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی منظور کی ہوئی شرط کے خلاف کرنے پر ت

…
مزید تفسیر

سیاق و سباق میں پڑھیں

باب 18, صفحہ 302, جوز 16

75. اس (خضر) نے کہا : کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے 76. موسیٰ نے کہا : اگر میں آپ سے سوال کروں کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا آپ پہنچ چکے ہیں میری طرف سے حد عذر کو 77. پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی کے لوگوں کے پاس تو انہوں نے کھانا مانگا بستی والوں سے تو انہوں نے انکار کردیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے تو ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو اس (خضر) نے اسے سیدھا کردیا موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے 78. اس (خضر) نے کہا بس اب یہ جدائی (کا وقت) ہے میرے اور آپ کے درمیان اب میں آپ کو بتائے دیتا ہوں اصل حقیقت ان چیزوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے 79. جہاں تک اس کشتی کا معاملہ ہے تو وہ غریب لوگوں کی (ملکیت) تھی جو محنت کرتے تھے دریا میں تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑ رہا تھا ہر کشتی کو زبردستی 80. رہا وہ لڑکا تو اس کے والدین دونوں مؤمن تھے تو ہمیں خدشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدی کرے گا 81. پس ہم نے چاہا کہ ان دونوں کو بدلے میں دے ان کا رب اس سے بہتر (اولاد) پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں 82. اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے اور ان کا باپ نیک آدمی تھا لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے) تھے اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے

- بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

نوٹس اور عکاسی۔

آپ کے پاس اس آیت پر کوئی نوٹ یا عکاسی نہیں ہے۔

Notes placeholders

قرآن سے جڑے رہیں ❤️

قرآن سے ربط تازہ کرنے، غور کرنے اور اس سے جڑے رہنے کے لیے مختصر معنی خیز یاددہانی۔

قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس
قرآن سے دعائیں
دن کی قرآنی آیت
آیت الکرسی
سورہ یسین
سورہ الملک
سورہ الرحمان
سورہ الواقعة
سورہ الكهف
سورہ المزمل
سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں
تعاون کریں۔