الكهف 18:55 وما منع الناس ان يومنوا اذ جاءهم الهدى ويستغفروا ربهم الا ان تاتيهم سنة الاولين او ياتيهم العذاب قبلا ٥٥
وَمَا
مَنَعَ
النَّاسَ
اَنْ
یُّؤْمِنُوْۤا
اِذْ
جَآءَهُمُ
الْهُدٰی
وَیَسْتَغْفِرُوْا
رَبَّهُمْ
اِلَّاۤ
اَنْ
تَاْتِیَهُمْ
سُنَّةُ
الْاَوَّلِیْنَ
اَوْ
یَاْتِیَهُمُ
الْعَذَابُ
قُبُلًا
۟
اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے ربّ کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کو کس چیز نے روک دیا ؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کےساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں! 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عذاب الہٰی کے منتظر کفار ٭٭…
اگلے زمانے کے اور اس وقت کے کافروں کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی اس کی تابعداری سے رکے رہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں کو اپنے آنکھوں دیکھ لیں۔ کسی نے تمنا کی کہ آسمان ہم پر گر پڑے، کسی نے کہا کہ لا جو عذاب لا سکتا ہے لے آ۔ قریش نے بھی کہا اے
عذاب الہٰی کے منتظر کفار ٭٭…
اگلے زمانے کے اور اس وقت کے کافروں کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی اس کی تابعداری سے رکے رہتے ہیں۔ چا