وَاِذْ
قُلْنَا
لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ
اسْجُدُوْا
لِاٰدَمَ
فَسَجَدُوْۤا
اِلَّاۤ
اِبْلِیْسَ ؕ
كَانَ
مِنَ
الْجِنِّ
فَفَسَقَ
عَنْ
اَمْرِ
رَبِّهٖ ؕ
اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ
وَذُرِّیَّتَهٗۤ
اَوْلِیَآءَ
مِنْ
دُوْنِیْ
وَهُمْ
لَكُمْ
عَدُوٌّ ؕ
بِئْسَ
لِلظّٰلِمِیْنَ
بَدَلًا
۟
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا، وہ جنوں میں سے تھا پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اب کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا اپنا دوست بناتے ہو، حالاں کہ وہ تمھارے دشمن ہیں یہ ظالموں کے لیے بہت برا بدل ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
محسن کو چھوڑ کر دشمن سے دوستی ٭٭…
بیان ہو رہا ہے کہ ابلیس تمہارا بلکہ تمہارے اصلی باپ آدم علیہ السلام کا بھی قدیمی دشمن رہا ہے , اپنے خالق و مالک کو چھوڑ کر تمہیں اس کی بات نہ ماننی چاہیئے۔ اللہ کے احسان و اکرام، اس کے لطف و کرم کو دیکھو کہ اسی نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں پالا پوسا، پھر اسے چھوڑ کر اس کے
محسن کو چھوڑ کر دشمن سے دوستی ٭٭…
بیان ہو رہا ہے کہ ابلیس تمہارا بلکہ تمہارے اصلی باپ آدم علیہ السلام کا بھی قدیمی دشمن رہا ہے , اپنے خالق و مالک کو چھو