الكهف 18:46 المال والبنون زينة الحياة الدنيا والباقيات الصالحات خير عند ربك ثوابا وخير املا ٤٦
اَلْمَالُ
وَالْبَنُوْنَ
زِیْنَةُ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ۚ
وَالْبٰقِیٰتُ
الصّٰلِحٰتُ
خَیْرٌ
عِنْدَ
رَبِّكَ
ثَوَابًا
وَّخَیْرٌ
اَمَلًا
۟
Yeh maal aur yeh aulad mehaz duniyavi zindagi ki ek hungami aaraish (adornment) hai, asal mein to baaqi reh janey wali nekiyan hi tere Rubb ke nazdeek natije ke lihaz se behter hain aur unhi se acchi ummedain wabasta ki jaa sakti hai
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حیات و موت کا نقشہ ٭٭…
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہانے لگتے ہیں۔ تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں اور ہوائیں انہیں د
حیات و موت کا نقشہ ٭٭…
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہان