وَاضْرِبْ
لَهُمْ
مَّثَلَ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
كَمَآءٍ
اَنْزَلْنٰهُ
مِنَ
السَّمَآءِ
فَاخْتَلَطَ
بِهٖ
نَبَاتُ
الْاَرْضِ
فَاَصْبَحَ
هَشِیْمًا
تَذْرُوْهُ
الرِّیٰحُ ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
مُّقْتَدِرًا
۟
اور ان کو دنیا کی زندگی کی مثال سناؤ جیسے کہ پانی جس کو ہم نے آسمان سے اتارا پھر اس سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہوگئیں پھر وہ ریزہ ریزہ ہوگئیں جس کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
حیات و موت کا نقشہ ٭٭…
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہانے لگتے ہیں۔ تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں اور ہوائیں انہیں د
حیات و موت کا نقشہ ٭٭…
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہان