الكهف 18:19 وكذالك بعثناهم ليتساءلوا بينهم قال قايل منهم كم لبثتم قالوا لبثنا يوما او بعض يوم قالوا ربكم اعلم بما لبثتم فابعثوا احدكم بورقكم هاذه الى المدينة فلينظر ايها ازكى طعاما فلياتكم برزق منه وليتلطف ولا يشعرن بكم احدا ١٩
وَكَذٰلِكَ
بَعَثْنٰهُمْ
لِیَتَسَآءَلُوْا
بَیْنَهُمْ ؕ
قَالَ
قَآىِٕلٌ
مِّنْهُمْ
كَمْ
لَبِثْتُمْ ؕ
قَالُوْا
لَبِثْنَا
یَوْمًا
اَوْ
بَعْضَ
یَوْمٍ ؕ
قَالُوْا
رَبُّكُمْ
اَعْلَمُ
بِمَا
لَبِثْتُمْ ؕ
فَابْعَثُوْۤا
اَحَدَكُمْ
بِوَرِقِكُمْ
هٰذِهٖۤ
اِلَی
الْمَدِیْنَةِ
فَلْیَنْظُرْ
اَیُّهَاۤ
اَزْكٰی
طَعَامًا
فَلْیَاْتِكُمْ
بِرِزْقٍ
مِّنْهُ
وَلَا
یُشْعِرَنَّ
بِكُمْ
اَحَدًا
۟
اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موت کے بعد زندگی ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن جب جاگے بالکل ویسے ہی تھے جیسے سوتے وقت تھے، بدن بال کھال سب اصلی حالت میں تھے۔ بس جیسے سوتے وقت تھے ویسے ہی اب بھی تھے، کسی قسم کا کوئی تغیر نہ تھا۔
موت کے بعد زندگی ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن