الجاثية 45:32 واذا قيل ان وعد الله حق والساعة لا ريب فيها قلتم ما ندري ما الساعة ان نظن الا ظنا وما نحن بمستيقنين ٣٢
وَاِذَا
قِیْلَ
اِنَّ
وَعْدَ
اللّٰهِ
حَقٌّ
وَّالسَّاعَةُ
لَا
رَیْبَ
فِیْهَا
قُلْتُمْ
مَّا
نَدْرِیْ
مَا
السَّاعَةُ ۙ
اِنْ
نَّظُنُّ
اِلَّا
ظَنًّا
وَّمَا
نَحْنُ
بِمُسْتَیْقِنِیْنَ
۟
اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ٭٭…
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا «رحمت» سے مراد جنت ہے۔
جی
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ٭٭…
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے