الإسراء 17:96 قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم انه كان بعباده خبيرا بصيرا ٩٦
قُلْ
كَفٰی
بِاللّٰهِ
شَهِیْدًا
بَیْنِیْ
وَبَیْنَكُمْ ؕ
اِنَّهٗ
كَانَ
بِعِبَادِهٖ
خَبِیْرًا
بَصِیْرًا
۟
اے محمد ؐ ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭…
اپنی سچائی پر میں اور گواہ کیوں ڈھونڈوں؟ اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ میں اگر اس کی پاک ذات پر تہمت باندھتا ہوں تو وہ خود مجھ سے انتقام لے گا۔ چنانچہ قرآن کی سورۃ الحاقہ میں بیان ہے کہ «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ * لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِين
صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭…
اپنی سچائی پر میں اور گواہ کیوں ڈھونڈوں؟ اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ میں اگر اس کی پاک ذات پر تہمت باندھتا ہوں تو وہ