الإسراء 17:62 قال ارايتك هاذا الذي كرمت علي لين اخرتن الى يوم القيامة لاحتنكن ذريته الا قليلا ٦٢
قَالَ
اَرَءَیْتَكَ
هٰذَا
الَّذِیْ
كَرَّمْتَ
عَلَیَّ ؗ
لَىِٕنْ
اَخَّرْتَنِ
اِلٰی
یَوْمِ
الْقِیٰمَةِ
لَاَحْتَنِكَنَّ
ذُرِّیَّتَهٗۤ
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟
پھر وہ بولا”دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تُو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تُو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پُوری نسل کی بیخ کَنی کر ڈالوں1، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے۔“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ابلیس کی قدیمی دشمنی ٭٭…
ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کر دیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی
ابلیس کی قدیمی دشمنی ٭٭…
ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طر