الإسراء 17:60 واذ قلنا لك ان ربك احاط بالناس وما جعلنا الرويا التي اريناك الا فتنة للناس والشجرة الملعونة في القران ونخوفهم فما يزيدهم الا طغيانا كبيرا ٦٠
وَاِذْ
قُلْنَا
لَكَ
اِنَّ
رَبَّكَ
اَحَاطَ
بِالنَّاسِ ؕ
وَمَا
جَعَلْنَا
الرُّءْیَا
الَّتِیْۤ
اَرَیْنٰكَ
اِلَّا
فِتْنَةً
لِّلنَّاسِ
وَالشَّجَرَةَ
الْمَلْعُوْنَةَ
فِی
الْقُرْاٰنِ ؕ
وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ
فَمَا
یَزِیْدُهُمْ
اِلَّا
طُغْیَانًا
كَبِیْرًا
۟۠
یاد کرو اے محمد ؐ ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے ربّ نے اِن لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔1 اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے2، اِس کو اور اُس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے3 ، ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا۔4 ہم اِنہیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جا رہے ہیں، مگر ہر تنبیہ اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مقصد معراج…
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قدرت تلے ہیں، وہ سب پر غالب ہے، سب اس کے ماتحت ہیں، وہ ان سب سے تجھے بچاتا رہے گا۔ جو ہم نے تجھے دکھایا وہ لوگوں کے لیے ایک صریح آزمائش ہے۔ یہ دکھانا مع
مقصد معراج…
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قد