الإسراء 17:51 او خلقا مما يكبر في صدوركم فسيقولون من يعيدنا قل الذي فطركم اول مرة فسينغضون اليك رءوسهم ويقولون متى هو قل عسى ان يكون قريبا ٥١
اَوْ
خَلْقًا
مِّمَّا
یَكْبُرُ
فِیْ
صُدُوْرِكُمْ ۚ
فَسَیَقُوْلُوْنَ
مَنْ
یُّعِیْدُنَا ؕ
قُلِ
الَّذِیْ
فَطَرَكُمْ
اَوَّلَ
مَرَّةٍ ۚ
فَسَیُنْغِضُوْنَ
اِلَیْكَ
رُءُوْسَهُمْ
وَیَقُوْلُوْنَ
مَتٰی
هُوَ ؕ
قُلْ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّكُوْنَ
قَرِیْبًا
۟
یاس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید تر ہو “ (پھر بھی تم اٹھ کر رہو گے) ۔ وہ ضرور پوچھیں گے ” کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا ؟ “ جواب میں کہو :” وہی جس نے پہلی بات تم کو پیدا کیا “۔ وہ سر ہلا ہلا کر پوچھیں گے :” اچھا ، تو یہ ہوگا کب ؟ “ تم کہو :” کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سب دوبارہ پیدا ہوں گے ٭٭…
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہو جائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے؟
سورۃ النازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ
سب دوبارہ پیدا ہوں گے ٭٭…
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہ