الإسراء 17:47 نحن اعلم بما يستمعون به اذ يستمعون اليك واذ هم نجوى اذ يقول الظالمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا ٤٧
نَحْنُ
اَعْلَمُ
بِمَا
یَسْتَمِعُوْنَ
بِهٖۤ
اِذْ
یَسْتَمِعُوْنَ
اِلَیْكَ
وَاِذْ
هُمْ
نَجْوٰۤی
اِذْ
یَقُوْلُ
الظّٰلِمُوْنَ
اِنْ
تَتَّبِعُوْنَ
اِلَّا
رَجُلًا
مَّسْحُوْرًا
۟
ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں تو دراصل کیا سُنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں۔ یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جارہے ہو1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سرداران کفر کا المیہ ٭٭…
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے۔ گو یہ لفظ اسی
سرداران کفر کا المیہ ٭٭…
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہی