الإسراء 17:31 ولا تقتلوا اولادكم خشية املاق نحن نرزقهم واياكم ان قتلهم كان خطيا كبيرا ٣١
وَلَا
تَقْتُلُوْۤا
اَوْلَادَكُمْ
خَشْیَةَ
اِمْلَاقٍ ؕ
نَحْنُ
نَرْزُقُهُمْ
وَاِیَّاكُمْ ؕ
اِنَّ
قَتْلَهُمْ
كَانَ
خِطْاً
كَبِیْرًا
۟
اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قتل اولاد کی مذمت ٭٭…
دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ان کے ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے۔ ایک طرف ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنا مال اپنے بچوں کو بطور ورثے کے دو اور دوسری جانب فرماتا ہے کہ انہیں مار نہ ڈالا کرو۔ جاہلیت کے لوگ نہ تو لڑکیوں کو ورثہ دیتے تھے نہ ان کا زندہ رکھنا پسند کرتے تھے ب
قتل اولاد کی مذمت ٭٭…
دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ان کے ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے۔ ایک طرف ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنا مال اپنے بچوں