الإسراء 17:23 ۞ وقضى ربك الا تعبدوا الا اياه وبالوالدين احسانا اما يبلغن عندك الكبر احدهما او كلاهما فلا تقل لهما اف ولا تنهرهما وقل لهما قولا كريما ٢٣
وَقَضٰی
رَبُّكَ
اَلَّا
تَعْبُدُوْۤا
اِلَّاۤ
اِیَّاهُ
وَبِالْوَالِدَیْنِ
اِحْسَانًا ؕ
اِمَّا
یَبْلُغَنَّ
عِنْدَكَ
الْكِبَرَ
اَحَدُهُمَاۤ
اَوْ
كِلٰهُمَا
فَلَا
تَقُلْ
لَّهُمَاۤ
اُفٍّ
وَّلَا
تَنْهَرْهُمَا
وَقُلْ
لَّهُمَا
قَوْلًا
كَرِیْمًا
۟
اور تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر وہ تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں ، ان میں سے ایک یا دونوں ، تو ان کو اُف نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو، اور ان سے احترام کے ساتھ بات کرو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اٹل فیصلے محکم حکم ٭٭…
یہاں «قَضَىٰ» معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الٰہی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطاعت میں ہمیشہ فرق نہ آئے۔ سیدنا ابی ابن کعب، ابن مسعود اور سیدنا ضحاک بن مزاحم رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «قَضَىٰ» کے بدلے «وصی» ہے۔ یہ دونوں حکم ا
اٹل فیصلے محکم حکم ٭٭…
یہاں «قَضَىٰ» معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الٰہی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطا