الإسراء 17:16 واذا اردنا ان نهلك قرية امرنا مترفيها ففسقوا فيها فحق عليها القول فدمرناها تدميرا ١٦
وَاِذَاۤ
اَرَدْنَاۤ
اَنْ
نُّهْلِكَ
قَرْیَةً
اَمَرْنَا
مُتْرَفِیْهَا
فَفَسَقُوْا
فِیْهَا
فَحَقَّ
عَلَیْهَا
الْقَوْلُ
فَدَمَّرْنٰهَا
تَدْمِیْرًا
۟
اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے۔ پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا۔ اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
تقدیر اور ہمارے اعمال ٭٭…
مشہور قرأت تو «أَمَرْنَا» ہے اس امر سے مراد تقدیری امر ہے جیسے اور آیت میں ہے: «أَتَاهَآ أَمْرُنَا لَيْلاً أَوْ نَهَارًا» [10-يونس:24] ” یعنی وہاں ہمارہ مقرر کردہ امر آجاتا ہے، رات کو یا دن کو۔ “
یاد رہے کہ اللہ برائیوں کا حکم نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ فحش کاریوں
تقدیر اور ہمارے اعمال ٭٭…
مشہور قرأت تو «أَمَرْنَا» ہے اس امر سے مراد تقدیری امر ہے جیسے اور آیت میں ہے: «أَتَاهَآ أَمْرُنَا لَيْلاً أَوْ نَهَارًا»