الإسراء 17:110 قل ادعوا الله او ادعوا الرحمان ايا ما تدعوا فله الاسماء الحسنى ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذالك سبيلا ١١٠
قُلِ
ادْعُوا
اللّٰهَ
اَوِ
ادْعُوا
الرَّحْمٰنَ ؕ
اَیًّا
مَّا
تَدْعُوْا
فَلَهُ
الْاَسْمَآءُ
الْحُسْنٰی ۚ
وَلَا
تَجْهَرْ
بِصَلَاتِكَ
وَلَا
تُخَافِتْ
بِهَا
وَابْتَغِ
بَیْنَ
ذٰلِكَ
سَبِیْلًا
۟
اے نبیؐ ، اِن سے کہو، اللہ کہہ کر پُکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پُکارو اُس کے لیے سب اچھے نام ہیں۔1 اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
رحمن یا رحیم ؟ ٭٭…
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے، اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لیے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ کا نام اللہ ہو رحمن ہو یا رحیم اور بس، ان کے سوا بھی بہت سے بہترین اور احسن نام اس کے ہیں۔ جس پاک نام سے چاہو اس سے دعائی
رحمن یا رحیم ؟ ٭٭…
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے، اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لیے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور ف