الإسراء 17:11 ويدع الانسان بالشر دعاءه بالخير وكان الانسان عجولا ١١
وَیَدْعُ
الْاِنْسَانُ
بِالشَّرِّ
دُعَآءَهٗ
بِالْخَیْرِ ؕ
وَكَانَ
الْاِنْسَانُ
عَجُوْلًا
۟
انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بددعا اور انسان ٭٭…
یعنی انسان کبھی کبھی دلگیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لیے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے۔ کبھی اپنے مال و اولاد کے لیے بد دعا کرنے لگتا ہے کبھی موت کی، کبھی ہلاکت کی، کبھی بربادی اور لعنت کی۔ «وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّـهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ لَ
بددعا اور انسان ٭٭…
یعنی انسان کبھی کبھی دلگیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لیے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے۔ کبھی اپنے مال و اولاد کے لیے