الإسراء 17:102 قال لقد علمت ما انزل هاولاء الا رب السماوات والارض بصاير واني لاظنك يا فرعون مثبورا ١٠٢
قَالَ
لَقَدْ
عَلِمْتَ
مَاۤ
اَنْزَلَ
هٰۤؤُلَآءِ
اِلَّا
رَبُّ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
بَصَآىِٕرَ ۚ
وَاِنِّیْ
لَاَظُنُّكَ
یٰفِرْعَوْنُ
مَثْبُوْرًا
۟
موسیٰؑ نے اس کے جواب میں کہا”تُو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں ربّ السّماوات و الارض کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں1، اور میرا خیال یہ ہےکہ اے فرعون ، تُو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے۔2“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نو معجزے ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کو نو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں: ہاتھ کا چمکیلا بن جانا، لکڑی کا سانپ ہو جانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورۃ ا
نو معجزے ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کو نو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک