الإسراء 17:100 قل لو انتم تملكون خزاين رحمة ربي اذا لامسكتم خشية الانفاق وكان الانسان قتورا ١٠٠
قُلْ
لَّوْ
اَنْتُمْ
تَمْلِكُوْنَ
خَزَآىِٕنَ
رَحْمَةِ
رَبِّیْۤ
اِذًا
لَّاَمْسَكْتُمْ
خَشْیَةَ
الْاِنْفَاقِ ؕ
وَكَانَ
الْاِنْسَانُ
قَتُوْرًا
۟۠
اے محمد ؐ ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے ربّ کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔ واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسانی فطرت کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭…
انسانی طبیعت کا خاصہ بیان ہو رہا ہے کہ رحمت الٰہی جیسی نہ کم ہونے والی چیزوں پر بھی اگر یہ قابض ہو جائے تو وہاں بھی اپنی بخیلی اور تنگ دلی نہ چھوڑے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا» [4-النساء:53]
انسانی فطرت کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭…
انسانی طبیعت کا خاصہ بیان ہو رہا ہے کہ رحمت الٰہی جیسی نہ کم ہونے والی چیزوں پر بھی اگر یہ قابض ہو جائے تو وہاں بھی اپن