الحجرات 49:5 ولو انهم صبروا حتى تخرج اليهم لكان خيرا لهم والله غفور رحيم ٥
وَلَوْ
اَنَّهُمْ
صَبَرُوْا
حَتّٰی
تَخْرُجَ
اِلَیْهِمْ
لَكَانَ
خَیْرًا
لَّهُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس نکل کر آجاتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ بہرحال اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آداب خطاب ٭٭…
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں۔ جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ” ان میں سے اکثر بےعقل ہیں “۔
پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” چاہیئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و
آداب خطاب ٭٭…
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں۔