الحشر 59:2 هو الذي اخرج الذين كفروا من اهل الكتاب من ديارهم لاول الحشر ما ظننتم ان يخرجوا وظنوا انهم مانعتهم حصونهم من الله فاتاهم الله من حيث لم يحتسبوا وقذف في قلوبهم الرعب يخربون بيوتهم بايديهم وايدي المومنين فاعتبروا يا اولي الابصار ٢
هُوَ
الَّذِیْۤ
اَخْرَجَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
مِنْ
اَهْلِ
الْكِتٰبِ
مِنْ
دِیَارِهِمْ
لِاَوَّلِ
الْحَشْرِ ؔؕ
مَا
ظَنَنْتُمْ
اَنْ
یَّخْرُجُوْا
وَظَنُّوْۤا
اَنَّهُمْ
مَّانِعَتُهُمْ
حُصُوْنُهُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
فَاَتٰىهُمُ
اللّٰهُ
مِنْ
حَیْثُ
لَمْ
یَحْتَسِبُوْا
وَقَذَفَ
فِیْ
قُلُوْبِهِمُ
الرُّعْبَ
یُخْرِبُوْنَ
بُیُوْتَهُمْ
بِاَیْدِیْهِمْ
وَاَیْدِی
الْمُؤْمِنِیْنَ ۗ
فَاعْتَبِرُوْا
یٰۤاُولِی
الْاَبْصَارِ
۟
وہی تو ہے جس نے کفار اہل کتاب کو حشر اول کے وقت ان کے گھروں سے نکال دیا۔ تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ لوگ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے ان کو خدا (کے عذاب) سے بچا لیں گے۔ مگر خدا نے ان کو وہاں سے آ لیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اُجاڑنے لگے تو اے (بصیرت کی) آنکھیں رکھنے والو عبرت پکڑو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تفسیر سورۃ الحشر:یہودیوں ک…
صحیح بخاری شریف اور صحیح مسلم شریف میں ہے کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا یہ سورۃ حشر ہے تو آپ نے فرمایا قبیلہ بنو نضیر کے بارے میں اتری ہے۔ بخاری شریف کی اور روایت میں ہے کہ آپ نے جواباً فرمایا یہ سورت سورۃ بنو نضیر ہے۔ [صحیح بخاری:4882]
تفسیر سورۃ الحشر:…
صحیح بخاری شریف اور صحیح مسلم شریف میں ہے کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا یہ سورۃ حشر ہے تو آپ نے ف