الحج 22:52 وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي الا اذا تمنى القى الشيطان في امنيته فينسخ الله ما يلقي الشيطان ثم يحكم الله اياته والله عليم حكيم ٥٢
وَمَاۤ
اَرْسَلْنَا
مِنْ
قَبْلِكَ
مِنْ
رَّسُوْلٍ
وَّلَا
نَبِیٍّ
اِلَّاۤ
اِذَا
تَمَنّٰۤی
اَلْقَی
الشَّیْطٰنُ
فِیْۤ
اُمْنِیَّتِهٖ ۚ
فَیَنْسَخُ
اللّٰهُ
مَا
یُلْقِی
الشَّیْطٰنُ
ثُمَّ
یُحْكِمُ
اللّٰهُ
اٰیٰتِهٖ ؕ
وَاللّٰهُ
عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ
۟ۙ
اور اے محمدؐ ، تم سے پہلےہم نے نہ کوئی رسُول ایسا بھیجا ہے نہ نبی 1 (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ)جب اُس نے تمنا کی 2 ، شیطان اس کی تمنّا میں خلل انداز ہوگیا۔ 3 اِس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے، 4 اللہ علیم ہے اور حکیم۔ 5
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭…
یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نب
شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭…
یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب م