اَلَمْ
تَرَ
اَنَّ
اللّٰهَ
یَسْجُدُ
لَهٗ
مَنْ
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَمَنْ
فِی
الْاَرْضِ
وَالشَّمْسُ
وَالْقَمَرُ
وَالنُّجُوْمُ
وَالْجِبَالُ
وَالشَّجَرُ
وَالدَّوَآبُّ
وَكَثِیْرٌ
مِّنَ
النَّاسِ ؕ
وَكَثِیْرٌ
حَقَّ
عَلَیْهِ
الْعَذَابُ ؕ
وَمَنْ
یُّهِنِ
اللّٰهُ
فَمَا
لَهٗ
مِنْ
مُّكْرِمٍ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یَفْعَلُ
مَا
یَشَآءُ
۟
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی کے آگے سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے انساناور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس کو خدا ذلیل کردے تو اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
چاند سورج ستارے سب سجدہ ریز ٭٭…
مستحق عبادت صرف وحدہ لاشریک اللہ ہے اس کی عظمت کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے خواہ بخوشی خواہ بے خوشی۔ ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع میں ہے۔ چنانچہ قرآن نے سائے کا دائیں بائیں اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہونا بھی آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ
چاند سورج ستارے سب سجدہ ریز ٭٭…
مستحق عبادت صرف وحدہ لاشریک اللہ ہے اس کی عظمت کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے خواہ بخوشی خواہ بے خوشی۔ ہر چیز کا سجدہ