الحديد 57:29 ليلا يعلم اهل الكتاب الا يقدرون على شيء من فضل الله وان الفضل بيد الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم ٢٩
لِّئَلَّا
یَعْلَمَ
اَهْلُ
الْكِتٰبِ
اَلَّا
یَقْدِرُوْنَ
عَلٰی
شَیْءٍ
مِّنْ
فَضْلِ
اللّٰهِ
وَاَنَّ
الْفَضْلَ
بِیَدِ
اللّٰهِ
یُؤْتِیْهِ
مَنْ
یَّشَآءُ ؕ
وَاللّٰهُ
ذُو
الْفَضْلِ
الْعَظِیْمِ
۟۠
(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال ٭٭…
اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا۔“
جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دو
مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال ٭٭…
اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے