الفتح 48:12 بل ظننتم ان لن ينقلب الرسول والمومنون الى اهليهم ابدا وزين ذالك في قلوبكم وظننتم ظن السوء وكنتم قوما بورا ١٢
بَلْ
ظَنَنْتُمْ
اَنْ
لَّنْ
یَّنْقَلِبَ
الرَّسُوْلُ
وَالْمُؤْمِنُوْنَ
اِلٰۤی
اَهْلِیْهِمْ
اَبَدًا
وَّزُیِّنَ
ذٰلِكَ
فِیْ
قُلُوْبِكُمْ
وَظَنَنْتُمْ
ظَنَّ
السَّوْءِ ۖۚ
وَكُنْتُمْ
قَوْمًا
بُوْرًا
۟
بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور مومنین کبھی اپنے گھروالوں کی طرف لوٹ کر نہ آئیں گےاور یہ خیال تمھارے دلوں کوبہت بھلانظر آیا اور تم نے بہت برے گمان کيےاور تم بربادہونے والے لوگ ہوگئے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭…
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭…
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے