سَیَقُوْلُ
الْمُخَلَّفُوْنَ
اِذَا
انْطَلَقْتُمْ
اِلٰی
مَغَانِمَ
لِتَاْخُذُوْهَا
ذَرُوْنَا
نَتَّبِعْكُمْ ۚ
یُرِیْدُوْنَ
اَنْ
یُّبَدِّلُوْا
كَلٰمَ
اللّٰهِ ؕ
قُلْ
لَّنْ
تَتَّبِعُوْنَا
كَذٰلِكُمْ
قَالَ
اللّٰهُ
مِنْ
قَبْلُ ۚ
فَسَیَقُوْلُوْنَ
بَلْ
تَحْسُدُوْنَنَا ؕ
بَلْ
كَانُوْا
لَا
یَفْقَهُوْنَ
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟
جب تم مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔1 یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔2 ان سے صاف کہہ دینا کہ ”تم ہر گز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ،اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے۔“3 یہ کہیں گے کہ”نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو“۔(حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے)بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مال غنیمت کے طالب ٭٭…
ارشاد الٰہی ہے کہ جن بدوی لوگوں نے حدیبیہ میں اللہ کے رسول اور صحابہ کا ساتھ نہ دیا وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو خیبر کی فتح کے موقع پر مال غنیمت سمیٹنے کے لیے جاتے ہوئے دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے لو، مصیبت کو دیکھ ک
مال غنیمت کے طالب ٭٭…
ارشاد الٰہی ہے کہ جن بدوی لوگوں نے حدیبیہ میں اللہ کے رسول اور صحابہ کا ساتھ نہ دیا وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان