البقرة 2:85 ثم انتم هاولاء تقتلون انفسكم وتخرجون فريقا منكم من ديارهم تظاهرون عليهم بالاثم والعدوان وان ياتوكم اسارى تفادوهم وهو محرم عليكم اخراجهم افتومنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض فما جزاء من يفعل ذالك منكم الا خزي في الحياة الدنيا ويوم القيامة يردون الى اشد العذاب وما الله بغافل عما تعملون ٨٥
ثُمَّ
اَنْتُمْ
هٰۤؤُلَآءِ
تَقْتُلُوْنَ
اَنْفُسَكُمْ
وَتُخْرِجُوْنَ
فَرِیْقًا
مِّنْكُمْ
مِّنْ
دِیَارِهِمْ ؗ
تَظٰهَرُوْنَ
عَلَیْهِمْ
بِالْاِثْمِ
وَالْعُدْوَانِ ؕ
وَاِنْ
یَّاْتُوْكُمْ
اُسٰرٰی
تُفٰدُوْهُمْ
وَهُوَ
مُحَرَّمٌ
عَلَیْكُمْ
اِخْرَاجُهُمْ ؕ
اَفَتُؤْمِنُوْنَ
بِبَعْضِ
الْكِتٰبِ
وَتَكْفُرُوْنَ
بِبَعْضٍ ۚ
فَمَا
جَزَآءُ
مَنْ
یَّفْعَلُ
ذٰلِكَ
مِنْكُمْ
اِلَّا
خِزْیٌ
فِی
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ۚ
وَیَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
یُرَدُّوْنَ
اِلٰۤی
اَشَدِّ
الْعَذَابِ ؕ
وَمَا
اللّٰهُ
بِغَافِلٍ
عَمَّا
تَعْمَلُوْنَ
۟
مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو ، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بےخانماں کردیتے ہو ، ظلم و زیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھا بندیاں کرتے ہو ، اور جب لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ان کی رہائی کے لئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو ، حالانکہ ان کو ان کے گھر وں سے نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہوکر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دئیے جائیں ؟ اللہ ان حرکات سے بیخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو ۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اوس و خزرج اور دیگر قبائل کو دعوت اتحاد ٭٭…
اوس اور خزرج انصار مدینہ کے دو قبیلے تھے اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں کی آپس میں کبھی بنتی نہ تھی ہمیشہ آپس میں جنگ و جدال رہتا تھا۔ مدینے کے یہودیوں کے بھی تین قبیلے تھے بنی قینقاع بنو نضیر اور بنو قریظہ، بنو قینقاع اور بنی نضیر تو خزرج کے طرف دار اور ان ک
اوس و خزرج اور دیگر قبائل کو دعوت اتحاد ٭٭…
اوس اور خزرج انصار مدینہ کے دو قبیلے تھے اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں کی آپس میں کبھی بنتی نہ تھی ہمیشہ آپس