البقرة 2:67 واذ قال موسى لقومه ان الله يامركم ان تذبحوا بقرة قالوا اتتخذنا هزوا قال اعوذ بالله ان اكون من الجاهلين ٦٧
وَاِذْ
قَالَ
مُوْسٰی
لِقَوْمِهٖۤ
اِنَّ
اللّٰهَ
یَاْمُرُكُمْ
اَنْ
تَذْبَحُوْا
بَقَرَةً ؕ
قَالُوْۤا
اَتَتَّخِذُنَا
هُزُوًا ؕ
قَالَ
اَعُوْذُ
بِاللّٰهِ
اَنْ
اَكُوْنَ
مِنَ
الْجٰهِلِیْنَ
۟
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تم کو حکم ديتا ہے کہ تم ایک بقرہ (گائے) ذبح کرو انھوں نے کہا کیا تم ہم سے ہنسی کر رہے ہو موسیٰ نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسا نادان بنوں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قاتل کون؟ ٭٭…
اس کا پورا واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بہت مالدار اور تونگر تھا اس کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی صرف ایک لڑکی تھی اور ایک بھیتجا تھا بھتیجے نے جب دیکھا کہ بڈھا مرتا ہی نہیں تو ورثہ کے لالچ میں اسے خیال آیا کہ میں ہی اسے کیوں نہ مار ڈالوں؟ اور اس کی لڑکی سے نکاح بھی کر لوں قتل کی
قاتل کون؟ ٭٭…
اس کا پورا واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بہت مالدار اور تونگر تھا اس کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی صرف ایک لڑکی تھی اور ایک بھیتجا ت