قَالَ
اِنَّهٗ
یَقُوْلُ
اِنَّهَا
بَقَرَةٌ
لَّا
ذَلُوْلٌ
تُثِیْرُ
الْاَرْضَ
وَلَا
تَسْقِی
الْحَرْثَ ۚ
مُسَلَّمَةٌ
لَّا
شِیَةَ
فِیْهَا ؕ
قَالُوا
الْـٰٔنَ
جِئْتَ
بِالْحَقِّ ؕ
فَذَبَحُوْهَا
وَمَا
كَادُوْا
یَفْعَلُوْنَ
۟۠
موسیٰ ؑ ؑ نے جواب دیا: اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہےجس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے، صحیح سالم اور بے داغ ہو۔اس پر وہ پکار اُٹھے کہ ہاں، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر اُنہوں نے اُسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حجت بازی کا انجام ٭٭…
بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہی اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں نکالنے اور باربار سوال کرنے لگے۔
ابن جریج فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حکم ملتے ہی وہ اگر کسی گائے کو بھی ذبح کر ڈالتے
حجت بازی کا انجام ٭٭…
بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہی اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں