البقرة 2:59 فبدل الذين ظلموا قولا غير الذي قيل لهم فانزلنا على الذين ظلموا رجزا من السماء بما كانوا يفسقون ٥٩
فَبَدَّلَ
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا
قَوْلًا
غَیْرَ
الَّذِیْ
قِیْلَ
لَهُمْ
فَاَنْزَلْنَا
عَلَی
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا
رِجْزًا
مِّنَ
السَّمَآءِ
بِمَا
كَانُوْا
یَفْسُقُوْنَ
۟۠
مگر جو بات کہی گئی تھی ، ظالموں نے اسے بدل کر کچھ کردیا۔ آخرکار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا ۔ یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی جو وہ کررہے تھے ۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہود کی پھر حکم عدولی ٭٭…
جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان سے کہا گیا کہ یہاں جو عمالیق ہیں ان سے جہاد کرو تو ان لوگوں نے نامردی دکھائی جس کی سزا میں انہیں میدان تیہ میں ڈال دیا گیا جیسے کہ سورۃ المائدہ میں ذکر
یہود کی پھر حکم عدولی ٭٭…
جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان س