لَاۤ
اِكْرَاهَ
فِی
الدِّیْنِ ۙ۫
قَدْ
تَّبَیَّنَ
الرُّشْدُ
مِنَ
الْغَیِّ ۚ
فَمَنْ
یَّكْفُرْ
بِالطَّاغُوْتِ
وَیُؤْمِنْ
بِاللّٰهِ
فَقَدِ
اسْتَمْسَكَ
بِالْعُرْوَةِ
الْوُثْقٰی ۗ
لَا
انْفِصَامَ
لَهَا ؕ
وَاللّٰهُ
سَمِیْعٌ
عَلِیْمٌ
۟
دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہدایت، گمراہی سے الگ ہوچکی ہے پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
جبر اور دعوت اسلام ٭٭…
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہ کر، اسلام کی حقانیت واضح اور روشن ہو چکی اس کے دلائل و براہین بیان ہو چکے ہیں پھر کسی اور جبر اور زبردستی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جسے اللہ رب العزت ہدایت دے گا، جس کا سینہ کھلا ہوا دل روشن اور آنکھیں بینا ہوں گی وہ تو خودبخو
جبر اور دعوت اسلام ٭٭…
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہ کر، اسلام کی حقانیت واضح اور روشن ہو چکی اس کے دلائل و براہین بیان ہو چک