البقرة 2:245 من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا فيضاعفه له اضعافا كثيرة والله يقبض ويبسط واليه ترجعون ٢٤٥
مَنْ
ذَا
الَّذِیْ
یُقْرِضُ
اللّٰهَ
قَرْضًا
حَسَنًا
فَیُضٰعِفَهٗ
لَهٗۤ
اَضْعَافًا
كَثِیْرَةً ؕ
وَاللّٰهُ
یَقْبِضُ
وَیَبْصُۜطُ ۪
وَاِلَیْهِ
تُرْجَعُوْنَ
۟
تم میں سے کون ہے ، جو اللہ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کردے ۔ گھٹانا بھی اس کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی ، اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موت اور زندگی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ لوگ چار ہزار تھے اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے، بعض تو ہزار کہتے ہیں، بعض چالیس ہزار بتاتے ہیں، بعض تیس ہزار سے کچھ اوپر بتاتے ہیں، یہ لوگ ذاوردان نامی بستی کے تھے جو واسط کی طرف ہے، بعض کہتے ہیں اس بستی کا نام اذرعات تھا، یہ لوگ طاعون ک
موت اور زندگی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ لوگ چار ہزار تھے اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے، بعض تو ہزار کہتے ہیں، بعض چالیس ہزار بت