لَا
جُنَاحَ
عَلَیْكُمْ
اِنْ
طَلَّقْتُمُ
النِّسَآءَ
مَا
لَمْ
تَمَسُّوْهُنَّ
اَوْ
تَفْرِضُوْا
لَهُنَّ
فَرِیْضَةً ۖۚ
وَّمَتِّعُوْهُنَّ ۚ
عَلَی
الْمُوْسِعِ
قَدَرُهٗ
وَعَلَی
الْمُقْتِرِ
قَدَرُهٗ ۚ
مَتَاعًا
بِالْمَعْرُوْفِ ۚ
حَقًّا
عَلَی
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں طلاق دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے ليے کچھ مہر مقرر کیا ہے تو ان کے مہر کا تم پر کچھ مواخذہ نہیں البتہ ان کو دستور کے مطابق کچھ سامان دے دو، وسعت والے پر اپنی حیثیت کے مطابق ہے اور تنگی والے پر اپنی حیثیت کے مطابق، یہ نیکی کرنے والوں پر لازم ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
حق مہر کب اور کتنا ٭٭…
عقد نکاح کے بعد دخول سے بھی طلاق کا دینا مباح ہو رہا ہے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں مراد مس سے نکاح ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:831/2] دخول سے پہلے طلاق دے دینا بلکہ مہر کا بھی ابھی تقرر نہیں ہوا اور طلاق دے دینا بھی جائز ہے، گو اس میں عورت کے بے حد دِل شکنی ہے، اسی لیے حکم ہے
حق مہر کب اور کتنا ٭٭…
عقد نکاح کے بعد دخول سے بھی طلاق کا دینا مباح ہو رہا ہے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں مراد مس سے نکاح ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:83