البقرة 2:234 والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا يتربصن بانفسهن اربعة اشهر وعشرا فاذا بلغن اجلهن فلا جناح عليكم فيما فعلن في انفسهن بالمعروف والله بما تعملون خبير ٢٣٤
وَالَّذِیْنَ
یُتَوَفَّوْنَ
مِنْكُمْ
وَیَذَرُوْنَ
اَزْوَاجًا
یَّتَرَبَّصْنَ
بِاَنْفُسِهِنَّ
اَرْبَعَةَ
اَشْهُرٍ
وَّعَشْرًا ۚ
فَاِذَا
بَلَغْنَ
اَجَلَهُنَّ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیْكُمْ
فِیْمَا
فَعَلْنَ
فِیْۤ
اَنْفُسِهِنَّ
بِالْمَعْرُوْفِ ؕ
وَاللّٰهُ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرٌ
۟
اور تم میں سے جو لوگ مرجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ، وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک انتظار میں رکھیں پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچیں تو جو کچھ وہ اپنی ذات کے بارے میں قاعدہ کے موافق کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ تمھارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خاوند کے انتقال کے بعد ٭٭…
اس آیت میں حکم ہو رہا ہے کہ عورت اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چار مہینے دس دن عدت گزاریں خواہ اس سے مجامعت ہو یا نہ ہوئی ہو، اس پر اجماع ہے دلیل اس کی ایک تو اس آیت کا عموم دوسرے یہ حدیث جو مسند احمد اور سنن میں ہے جسے امام ترمذی رحمہ اللہ صحیح کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مس
خاوند کے انتقال کے بعد ٭٭…
اس آیت میں حکم ہو رہا ہے کہ عورت اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چار مہینے دس دن عدت گزاریں خواہ اس سے مجامعت ہو یا نہ ہوئی ہو، ا