البقرة 2:231 واذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا ومن يفعل ذالك فقد ظلم نفسه ولا تتخذوا ايات الله هزوا واذكروا نعمت الله عليكم وما انزل عليكم من الكتاب والحكمة يعظكم به واتقوا الله واعلموا ان الله بكل شيء عليم ٢٣١
وَاِذَا
طَلَّقْتُمُ
النِّسَآءَ
فَبَلَغْنَ
اَجَلَهُنَّ
فَاَمْسِكُوْهُنَّ
بِمَعْرُوْفٍ
اَوْ
سَرِّحُوْهُنَّ
بِمَعْرُوْفٍ ۪
وَلَا
تُمْسِكُوْهُنَّ
ضِرَارًا
لِّتَعْتَدُوْا ۚ
وَمَنْ
یَّفْعَلْ
ذٰلِكَ
فَقَدْ
ظَلَمَ
نَفْسَهٗ ؕ
وَلَا
تَتَّخِذُوْۤا
اٰیٰتِ
اللّٰهِ
هُزُوًا ؗ
وَّاذْكُرُوْا
نِعْمَتَ
اللّٰهِ
عَلَیْكُمْ
وَمَاۤ
اَنْزَلَ
عَلَیْكُمْ
مِّنَ
الْكِتٰبِ
وَالْحِكْمَةِ
یَعِظُكُمْ
بِهٖ ؕ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
وَاعْلَمُوْۤا
اَنَّ
اللّٰهَ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
عَلِیْمٌ
۟۠
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آجائے ، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کردو ۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا ، وہ درحقیقت اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے ۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے ، اس کا احترام ملحوظ رکھو ، اللہ سے ڈرو ، اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آئین طلاق کی وضاحت ٭٭…
مردوں کو حکم ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی بیویوں کو طلاق دیں جن حالتوں میں لوٹا لینے کا حق انہیں حاصل ہے اور عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے یا عمدگی کے ساتھ لوٹائے یعنی رجعت پر گواہ مقرر کرے اور اچھائی سے بسانے کی نیت رکھے یا اسے عمدگی سے چھوڑ دے اور عدت ختم ہونے کے بعد اپنے ہاں بغیر
آئین طلاق کی وضاحت ٭٭…
مردوں کو حکم ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی بیویوں کو طلاق دیں جن حالتوں میں لوٹا لینے کا حق انہیں حاصل ہے اور عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ