البقرة 2:203 ۞ واذكروا الله في ايام معدودات فمن تعجل في يومين فلا اثم عليه ومن تاخر فلا اثم عليه لمن اتقى واتقوا الله واعلموا انكم اليه تحشرون ٢٠٣
وَاذْكُرُوا
اللّٰهَ
فِیْۤ
اَیَّامٍ
مَّعْدُوْدٰتٍ ؕ
فَمَنْ
تَعَجَّلَ
فِیْ
یَوْمَیْنِ
فَلَاۤ
اِثْمَ
عَلَیْهِ ۚ
وَمَنْ
تَاَخَّرَ
فَلَاۤ
اِثْمَ
عَلَیْهِ ۙ
لِمَنِ
اتَّقٰی ؕ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
وَاعْلَمُوْۤا
اَنَّكُمْ
اِلَیْهِ
تُحْشَرُوْنَ
۟
اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایام تشریق ٭٭…
آیت میں «أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ» سے مراد ایام تشریق اور ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں، [تفسیر قرطبی:3/3] ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایام تشریق میں فرض نمازوں کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر کہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:545/2] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عرفے کا
ایام تشریق ٭٭…
آیت میں «أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ» سے مراد ایام تشریق اور ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں، [تفسیر قرطبی:3/3] ذکر اللہ سے مر