البقرة 2:193 وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله فان انتهوا فلا عدوان الا على الظالمين ١٩٣
وَقٰتِلُوْهُمْ
حَتّٰی
لَا
تَكُوْنَ
فِتْنَةٌ
وَّیَكُوْنَ
الدِّیْنُ
لِلّٰهِ ؕ
فَاِنِ
انْتَهَوْا
فَلَا
عُدْوَانَ
اِلَّا
عَلَی
الظّٰلِمِیْنَ
۟
اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حکم جہاد اور شرائط ٭٭…
حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورۃ برأت نازل ہوئی، [تفسیر ابن جریر
حکم جہاد اور شرائط ٭٭…
حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے