البقرة 2:188 ولا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها الى الحكام لتاكلوا فريقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون ١٨٨
وَلَا
تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَكُمْ
بَیْنَكُمْ
بِالْبَاطِلِ
وَتُدْلُوْا
بِهَاۤ
اِلَی
الْحُكَّامِ
لِتَاْكُلُوْا
فَرِیْقًا
مِّنْ
اَمْوَالِ
النَّاسِ
بِالْاِثْمِ
وَاَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
۟۠
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دُوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاوٴ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دُوسروں کے مال کا کوئی حصہّ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منصف، انصاف اور مدعی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جس پر کسی اور کا مال چاہیئے اور اس حقدار کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو یہ شخص کا انکار کر جائے اور حاکم کے پاس جا کر بری ہو جائے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ اس پر اس کا حق ہے وہ اس کا مال مار رہا ہے اور حرام کھا رہا
منصف، انصاف اور مدعی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جس پر کسی اور کا مال چاہیئے اور اس حقدار کے پاس کوئی دلیل