البقرة 2:186 واذا سالك عبادي عني فاني قريب اجيب دعوة الداع اذا دعان فليستجيبوا لي وليومنوا بي لعلهم يرشدون ١٨٦
وَاِذَا
سَاَلَكَ
عِبَادِیْ
عَنِّیْ
فَاِنِّیْ
قَرِیْبٌ ؕ
اُجِیْبُ
دَعْوَةَ
الدَّاعِ
اِذَا
دَعَانِ ۙ
فَلْیَسْتَجِیْبُوْا
لِیْ
وَلْیُؤْمِنُوْا
بِیْ
لَعَلَّهُمْ
یَرْشُدُوْنَ
۟
اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دعا اور اللہ مجیب الدعوات ٭٭…
ایک اعرابی نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارا رب قریب ہے؟ اگر قریب ہو تو ہم اس سے سرگوشیاں کر لیں یا دور ہے؟ اگر دور ہو تو ہم اونچی اونچی آوازوں سے اسے پکاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری. [تفسیر ابن جریر الطبری:480
دعا اور اللہ مجیب الدعوات ٭٭…
ایک اعرابی نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارا رب قریب ہے؟ اگر قریب ہو تو ہم اس سے سرگوشیاں کر لی