البقرة 2:173 انما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما اهل به لغير الله فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا اثم عليه ان الله غفور رحيم ١٧٣
اِنَّمَا
حَرَّمَ
عَلَیْكُمُ
الْمَیْتَةَ
وَالدَّمَ
وَلَحْمَ
الْخِنْزِیْرِ
وَمَاۤ
اُهِلَّ
بِهٖ
لِغَیْرِ
اللّٰهِ ۚ
فَمَنِ
اضْطُرَّ
غَیْرَ
بَاغٍ
وَّلَا
عَادٍ
فَلَاۤ
اِثْمَ
عَلَیْهِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو۔1 ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حلال اور حرام کیا ہے؟ ٭٭…
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تم پاک صاف اور حلال طیب چیزیں کھایا کرو اور میری شکر گزاری کرو، لقمہ حلال دعا عبادت کی قبولیت کا سبب ہے اور لقمہ حرام عدم قبولیت کا، مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ
حلال اور حرام کیا ہے؟ ٭٭…
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تم پاک صاف اور حلال طیب چیزیں کھایا کرو اور میری شکر گزاری کرو، لقمہ حلال