البقرة 2:119 انا ارسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسال عن اصحاب الجحيم ١١٩
اِنَّاۤ
اَرْسَلْنٰكَ
بِالْحَقِّ
بَشِیْرًا
وَّنَذِیْرًا ۙ
وَّلَا
تُسْـَٔلُ
عَنْ
اَصْحٰبِ
الْجَحِیْمِ
۟
(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کی حد تک مسؤل ہیں ٭٭…
حدیث میں ہے خوشخبری جنت کی اور ڈراوا جہنم سے [تفسیر ابن ابی حاتم:354/1] «لا تسئل» کی دوسری قرأت ما تسئل بھی ہے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «لن تسئل» بھی ہے یعنی تجھ سے کفار کی بابت سوال نہیں کیا جائے گا جیسے فرمایا آیت «فَإِنَّ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کی حد تک مسؤل ہیں ٭٭…
حدیث میں ہے خوشخبری جنت کی اور ڈراوا جہنم سے [تفسیر ابن ابی حاتم:354/1] «لا تسئل» کی دوسری قرأت م