الأعراف 7:88 ۞ قال الملا الذين استكبروا من قومه لنخرجنك يا شعيب والذين امنوا معك من قريتنا او لتعودن في ملتنا قال اولو كنا كارهين ٨٨
قَالَ
الْمَلَاُ
الَّذِیْنَ
اسْتَكْبَرُوْا
مِنْ
قَوْمِهٖ
لَنُخْرِجَنَّكَ
یٰشُعَیْبُ
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مَعَكَ
مِنْ
قَرْیَتِنَاۤ
اَوْ
لَتَعُوْدُنَّ
فِیْ
مِلَّتِنَا ؕ
قَالَ
اَوَلَوْ
كُنَّا
كٰرِهِیْنَ
۟۫
اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ‘ اس سے کہا ” اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ۔ “ شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭…
شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے: اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی
شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭…
شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ ک