وَنَادٰۤی
اَصْحٰبُ
الْجَنَّةِ
اَصْحٰبَ
النَّارِ
اَنْ
قَدْ
وَجَدْنَا
مَا
وَعَدَنَا
رَبُّنَا
حَقًّا
فَهَلْ
وَجَدْتُّمْ
مَّا
وَعَدَ
رَبُّكُمْ
حَقًّا ؕ
قَالُوْا
نَعَمْ ۚ
فَاَذَّنَ
مُؤَذِّنٌ
بَیْنَهُمْ
اَنْ
لَّعْنَةُ
اللّٰهِ
عَلَی
الظّٰلِمِیْنَ
۟ۙ
اور جنت والے دوزح والوں کو پکاریں گے کہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو سچاپایا، کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا وہ کہیں گے ہاں پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭…
جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے، صحیح پایا۔ تم اپنی کہو!
«ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔
اس کے جواب میں م
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭…
جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپ