وَنَزَعْنَا
مَا
فِیْ
صُدُوْرِهِمْ
مِّنْ
غِلٍّ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهِمُ
الْاَنْهٰرُ ۚ
وَقَالُوا
الْحَمْدُ
لِلّٰهِ
الَّذِیْ
هَدٰىنَا
لِهٰذَا ۫
وَمَا
كُنَّا
لِنَهْتَدِیَ
لَوْلَاۤ
اَنْ
هَدٰىنَا
اللّٰهُ ۚ
لَقَدْ
جَآءَتْ
رُسُلُ
رَبِّنَا
بِالْحَقِّ ؕ
وَنُوْدُوْۤا
اَنْ
تِلْكُمُ
الْجَنَّةُ
اُوْرِثْتُمُوْهَا
بِمَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ
۟
اور ہم نکال دیں گے جو کچھ ان کے سینوں میں ہوگا (ایک دوسرے کی طرف سے) کوئی میل اور ان (کے بالاخانوں) کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچادیا اور ہم یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔ یقیناً ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے اور (تب) انہیں پکارا جائے گا کہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث بنا دیے گئے ہو اپنے اعمال کی وجہ سے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭…
اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔
پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں ا
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭…
اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپ