قَالَ
اهْبِطُوْا
بَعْضُكُمْ
لِبَعْضٍ
عَدُوٌّ ۚ
وَلَكُمْ
فِی
الْاَرْضِ
مُسْتَقَرٌّ
وَّمَتَاعٌ
اِلٰی
حِیْنٍ
۟
خدا نے کہا، اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، اور تمھارے ليے زمین میں ایک خاص مدت تک ٹھہرنا اور نفع اٹھانا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭…
بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم علیہ السلام ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورۃ طہٰ میں ہے آیت «اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً» [20-طه:123] حواء آدم علیہ السلام کے تابع تھیں اور سانپ کا
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭…
بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم