الأعراف 7:22 فدلاهما بغرور فلما ذاقا الشجرة بدت لهما سواتهما وطفقا يخصفان عليهما من ورق الجنة وناداهما ربهما الم انهكما عن تلكما الشجرة واقل لكما ان الشيطان لكما عدو مبين ٢٢
فَدَلّٰىهُمَا
بِغُرُوْرٍ ۚ
فَلَمَّا
ذَاقَا
الشَّجَرَةَ
بَدَتْ
لَهُمَا
سَوْاٰتُهُمَا
وَطَفِقَا
یَخْصِفٰنِ
عَلَیْهِمَا
مِنْ
وَّرَقِ
الْجَنَّةِ ؕ
وَنَادٰىهُمَا
رَبُّهُمَاۤ
اَلَمْ
اَنْهَكُمَا
عَنْ
تِلْكُمَا
الشَّجَرَةِ
وَاَقُلْ
لَّكُمَاۤ
اِنَّ
الشَّیْطٰنَ
لَكُمَا
عَدُوٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
تو اس نے دھوکہ دے کر انہیں مائل کر ہی لیا تو جب ان دونوں نے چکھ لیا اس درخت کے پھل کو تو ظاہر ہوگئیں ان پر ان کی شرمگاہیں اور وہ لگے گانٹھنے جنت کے (درختوں کے) پتوں کو اپنے اوپر (لباس بنانے کے لیے) اور اب آواز دی ان دونوں کو ان کے رب نے کہ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا اس درخت سے اور کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ٭٭…
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا قد مثل درخت کھجور کے، بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا، نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہو گئی۔ بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئ
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ٭٭…
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا قد مثل درخت کھجور کے، بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، در