الأعراف 7:24 قال اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم في الارض مستقر ومتاع الى حين ٢٤
قَالَ
اهْبِطُوْا
بَعْضُكُمْ
لِبَعْضٍ
عَدُوٌّ ۚ
وَلَكُمْ
فِی
الْاَرْضِ
مُسْتَقَرٌّ
وَّمَتَاعٌ
اِلٰی
حِیْنٍ
۟
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭…
بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم علیہ السلام ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورۃ طہٰ میں ہے آیت «اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً» [20-طه:123] حواء آدم علیہ السلام کے تابع تھیں اور سانپ کا
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭…
بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم